بجٹ 27-2026: آئی ایم ایف کا تمام طبقات سے انکم ٹیکس وصولی یقینی بنانے کا مطالبہ

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک کے تمام طبقات سے مؤثر انداز میں انکم ٹیکس وصولی کو یقینی بنایا جائے اور ٹیکس نیٹ کو مزید وسعت دی جائے تاکہ حکومتی آمدن میں اضافہ ممکن ہو سکے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی ایم ایف نے صوبائی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ زرعی آمدن پر ٹیکس وصولی میں نمایاں پیش رفت دکھائیں۔ اس سلسلے میں آئندہ مالی سال کے دوران صوبوں کو مجموعی طور پر 400 ارب روپے کی اضافی ٹیکس آمدن حاصل کرنے کا ہدف دیا جا سکتا ہے۔

آئی ایم یاف کا کہنا ہے کہ پنجاب اور سندھ کو بالخصوص زرعی انکم ٹیکس کی وصولی میں بہتر کارکردگی دکھانا ہوگی۔ تخمینوں کے مطابق اگر زرعی آمدن پر مؤثر اور مکمل ٹیکس وصولی یقینی بنائی جائے تو قومی خزانے کو سالانہ 800 ارب روپے تک اضافی آمدن حاصل ہو سکتی ہے۔

آئی ایم ایف نے وفاقی حکومت سے تاجروں کو بھی انکم ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ماضی میں تاجر دوست اسکیم کے تحت تقریباً 32 لاکھ ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا ہدف مقرر کیا تھا، جس سے سالانہ 500 ارب روپے تک اضافی ٹیکس وصولی کی توقع کی جا رہی تھی۔

حکومت آئندہ مالی سال میں تاجروں کی مشاورت سے ایک نئی اور آسان ٹیکس اسکیم متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق اس اسکیم کے ذریعے 300 ارب روپے سے زائد اضافی محصولات حاصل ہو سکتی ہیں۔

دوسری جانب آئی ایم ایف نے سیلز ٹیکس میں دی گئی مختلف رعایتوں اور استثنیٰ پر نظرثانی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ زرعی شعبے میں استعمال ہونے والے بعض ان پٹس اور سولر پینلز پر مکمل ٹیکس وصولی کے لیے بھی دباؤ موجود ہے۔

سولر پینلز پر سیلز ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے، جبکہ موبائل فونز، گھڑیوں اور جانوروں کی درآمد شدہ خوراک پر بھی ٹیکسوں میں اضافے کا امکان ہے۔