اہم ترین

مریم نواز کا وزیر اعلیٰ بننے کے بعد اسمبلی میں ڈیڑھ گھنٹے بھاشن

ن لیگ کی چیف آرگنائزر نے وزیر اعلیٰ منتخب ہونے کے بعد پنجاب اسمبلی مین ڈیڑھ گھنٹے طویل تقریر کی ہے۔۔

پنجاب اسمبلی میں اپٌنے اولین خطاب کے دوران مریم نواز نے کہا کہ ہم ایک مشکل مرحلے سے گزر کر یہاں پہنچے ہیں اور جب آپ مشکلات سے گزرتے ہیں اور ظلم کا نشانہ بن کر کہیں پہنچتے ہیں تو لوگ ڈرتے ہیں کہ آپ کے دل میں انتقام اور بدلے کا جذبہ ہو گا لیکن میں کہنا چاہتی ہوں کہ میرے دل میں کسی کے لیے انتقام یا دلے کا کوئی جذبہ نہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ میں ان سب کی بھی وزیراعلیٰ ہوں جنھوں نے مجھے ووٹ دیا اور ان کی بھی وزیراعلیٰ، بیٹی اور بہن ہوں جنھوں نے مجھے ووٹ نہیں دیا۔انھوں نے اپوزیشن کو اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ’میرے دل، دفتر اور چیمبر کے دروازے ہر وقت اسی طرح کھلے ہیں جیسے میری جماعت کے کارکنوں کے لیے کھلے ہیں۔

وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے اپنے انتخاب کے بعد اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’مجھے امید ہے کہ آپ کی قیادت میں یہ ایوان جمہوری اصولوں اور جمہوریت کے پرچم کو سربلند رکھے گا۔‘

انھوں نے اپوزیشن کی غیرموجودگی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میرا دل تھا وہ یہاں ہوتے اور جمہوری عمل کا حصہ بنتے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ جمہوریت میں مقابلہ کرنا کتنا ضروری ہے۔ہم پر بھی انتہائی مشکل وقت آئے اور وہ مشکل وقت بڑا لمبا عرصہ رہا جب ہر چیز ہمارے خلاف تھی۔ اس کے باوجود بطور جماعت ہم نے میدان کبھی خالی نہیں چھوڑا۔آج اگر اپوزیشن موجود ہوتی میری تقریر کے دوران شور شرابا کرتی تو مجھے خوشی ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب کے عوام کے لیے شہباز شریف کی طرف سے جاری کردہ صحت کارڈ کو ری ڈیزائن کر کے اس کا دوبارہ اجرا کیا جائے گا۔جلد ائیر ایمبولینس سروس شروع کریں گے۔ آبادی میں بیماریوں کی اسکریننگ کی جائیں گی۔

نومنتخب وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ کسی خاتون کو ہراساں کرنا مریم نواز کی ریڈ لائن ہے۔ ٹرانسجینڈر کے لیے بھی خصوصی پیکج بنا رہی ہوں۔ اقلیتیں ہمارے سروں کا تاج ہیں اور اقلیتوں کے لیے محفوظ پنجاب دیکھنا چاہتی ہوں۔

مریم نواز نے وزیراعلیٰ منتخب ہونے کے بعد اعلان کیا ہے کہ وہ پنجاب کے عوام کے لیے رستے آسان کریں گی اور ہر سڑک پر پبلک ٹرانسپورٹ یقینی بنائیں گی۔

مریم نواز نے کہا کہ شہباز شریف کے وژن کے مطابق ’پکیاں سڑکاں، سوکھے پینڈے‘ پروگرام کو آگے بڑھاؤں گی۔ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ارکان صوبائی اسمبلی سے ملاقاتیں شروع کریں گے اور وہاں کے مسائل کا حل ترجیح پر حل کریں گے۔محفوظ پنجاب ان کا خواب ہے۔

پاکستان