اسرائیل نے فلسطین کے سابق وزیر اعظم اور حماس کے سیاسی ونگ کے سربراہ اسماعیل ہانیہ کے 3 بیٹوں اور 2 پوتوں کو بھی شہید کردیا ہے۔۔
الجزیرہ کے مطابق اسماعیل ہانیہ نے خلیجی ریاست قطر میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں لیکن ان کے اہل خانہ غزہ اور مغربی کنارے میں ہی مقیم ہیں۔ 7 اکتوبر کے بعد اسرائیل کے ایک حملے میں ان کی پوتی شہید ہچکی ہیں اور اب ایک فضائی حملے میں ان کے 3 بیٹوں اور دو پوتوں کو بھی شہید کردیا گیا ہے۔
حماس کے جاری کردہ بیان کے مطابق الشاتی کیمپ میں استائیل نے ایک کار کو نشانہ بنایا ۔ جس کے نتیجے میں اس میں سوار 5 افراد شہید ہوگئے۔ اسرائیل نے جس گاڑی کو نشانہ بنایا اس میں اسماعیل ہانیہ کے تین بیٹے حزم، عامر اور محمد سمیت دو پوتے سوار تھے۔
اسماعیل ہانیہ نے اپنے بچوں کی موت کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ میرے بیٹوں کا خون فلسطینیوں کے خون سے زیادہ قیمتی نہیں۔ اسرائیل اگر یہ سوچتا ہے کہ میرے بچوں کو نشانہ بنانے سے حماس کے موقف میں تبدیلی آئے گی تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔
حماس رہنما نے مزید کہا کہ ہمارا موقف واضح اور بے لچک ہے ۔ ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔۔۔
واضح رہے کہ چند روز قبل اسماعیل ہانیہ ایک بہن کو بھی اسرائیل نے گرفتار کیا تھا۔ ان پر حماس کے رہنماؤں سے رابطے اور ان کی مالی اعانت کا الزام لگایا گیا تھا ۔۔۔۔











