اہم ترین

امریکا میں ٹک ٹاک بند کرنے کی تیاریاں

ٹک ٹاک نے امریکی حکومت کے فیصلے کے خلاف عدالت کی جانب سے کی گئی اپیل مسترد کردی، اب سپریم کورٹ سے ریلیف نہ ملنے پر ایپ 19 جنوری کو بند ہوسکتی ہے۔

امریکا میں مختصر ویڈیو پلیٹ فارم ٹک ٹاک کے 17 کروڑ سے زیادہ صارفین ہیں لیکن امریکی حکومت نے طویل عرصے سے ٹک ٹاک کو خبردار کیا ہے کہ وہ اسے کسی غیر چینی مالک کو فروخت کرے یا اسے بند کر دے۔

امریکی حکومت بائٹ ڈانس کو قومی سلامتی کا خطرہ سمجھتی ہے، ان کا خیال ہے کہ بائٹ ڈانس لاکھوں امریکی صارفین کا ڈیٹا چینی حکومت کے ساتھ شیئر کر سکتا ہے جسے جاسوسی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، اور چینی حکومت بائٹ ڈانس کو ٹک ٹاک کے ذریعے اپنا پروپیگنڈا پھیلانے پر مجبور کر سکتی ہے۔

موجودہ امریکی صدر جو بائیڈن نے اپریل 2024 میں ایک بل کی منظوری دی تھی جس میں ٹک ٹاک کو حکم دیا گیا تھا کہ اگر وہ امریکا میں اپنا کام جاری رکھنا چاہتی ہے تو اپنے آپریشنز کسی غیر چینی کمپنی کے حوالے کر دے۔

حکومت کے اس فیصلے کو ٹِک ٹِک کی پیرنٹ کمپنی بائٹ ڈانس نے عدالت میں چیلنج کیا تھا، لیکن یو ایس کورٹ آف اپیل نے اس قانون کو قرار دینے سے انکار کرتے ہوئے ٹک ٹاک کو ایک بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔

امریکی حکومت نے ٹک ٹاک کو 19 جنوری 2025 کی ڈیڈ لائن دی ہے، حکومت چاہے تو اس ڈیڈ لائن میں توسیع کر سکتی ہے، لیکن ٹک ٹاک کی پیرنٹ کمپنی بائٹ ڈانس پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ وہ کسی دوسری کمپنی کو ٹک ٹاک فروخت نہیں کرے گی۔ فی الحال بائٹ ڈانس نے اپیل کورٹ کے فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ 20 جنوری سے امریکا کے صدر بننے جا رہے ہیں تو ٹک ٹاک کے مستقبل کا انحصار اس بات پر ہے کہ اس حوالے سے کیا فیصلہ کرتے ہیں۔ کیونکہ مارچ 2024 میں ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ ٹک ٹاک پر پابندی لگنے سے مارک زکربرگ کو براہ راست فائدہ ہوگ۔

ٹرمپ نے 2020 کے الیکشن پر اثر انداز ہونے کا الزام لگا کر مارک زکربرگ کو تاحیات قید کی دھمکی بھی دی ہے۔تاہم مارک زکربرگ بھی ان کے قریب آنے کی کوشش کرتے نظر آ رہے ہیں۔ انہوں نے نا صرف ٹرمپ کو ان کی انتخابی کامیابی پر مبارکباد دی بلکہ ان سے ملاقات بھی کی ہے۔

اگر ٹک ٹاک کو عدالت سے کوئی ریلیف نہیں ملا تو ہو سکتا ہے کہ 19 جنوری کو امریکا میں اس کا آخری دن ہو، اس معاملے میں ٹک ٹاک صارفین میں بھی غصہ پایا جاتا ہے۔

پاکستان