پاکستان نے ثالث کی درخواست پر افغان طالبان سے مذاکراتی عمل کو جاری رکھ کر امن کو ایک اور موقع دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
سرکاری میڈیا کے مطابق ترکیہ کے شہر استنبول میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کے 4 ادوار ہوئے لیکن افغان طالبان کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے سارا عمل سبوتاژ ہوگیا۔
گزشتہ روز وفاقی وزیر اطلاعات عطا محمد تارڑ نے مذاکرات کی ناکامی کا اعلان کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔
مذاکراتی عمل میں ثالث کا کردار ادا کرنے والوں کی درخواست پر پاکستان نے افغان طالبان سے ایک اور مذاکراتی دور شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ڈان نویز کے مطابق فغانستان نے کالعدم ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کو ملک بدر کرنے کی تجویز دی ہے جس پر اکستان کا موقف ہے کہ افغان طالبان کالعدم ٹی ٹی پی کی کارروائیوں کو غیر شرعی قرار دیں، افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے خلاف قابلِ تصدیق اور مؤثر کاروائی کرے۔ پاکستان کی تجویز پر افغان طالبان کی مشاورت کاعمل جاری ہے۔











