راشد لطیف نے فیس پبک پر اپنی پوست میں لکھا کہ وکٹ کیپرز اور کپتان کی پوزیشن بہت اہم ہوتی ہیں خاص طور پر کپتان کی کارکردگی کبھی کبھار آ جائے تو ٹیم کو حوصلہ ہو جاتا ہے۔ دوسرا اہم نکتہ وکٹ کیپرز کا ہے جو ڈومیسٹک میں تو اوپن اور ون ڈاؤن کھیلتے ہیں لیکن انٹرنیشنل میں ان کا کوئی نمبر سیٹ نہیں ہوتا اور وہ مختلف کوچز اور مختلف کپتانوں کے انڈر الگ الگ نمبرز پر کھیلتے ہوئے نظر آئے تھے ۔
راشد لطیف نے لکھا کہ بنگلا دیش کے سیریز سے لے کر ایشیا کپ تک صاحبزادہ فرحان ٹیم کے دوسرے وکٹ کیپر رہے لیکن جب حارث ڈراپ ہوئے تو دوسرے وکٹ کیپر عثمان آئے لیکن فرحان سے وکٹ کیپنگ نہیں کرائی گئی ۔
انہوں نے لکھا ایسے ہی محمد وسیم جونئیر اور سلمان مرزا ٹیم کے ساتھ موجود رہے لیکن نسیم شاہ باہر سے آ کر کھیل جاتے ہیں۔ ان کو کوچ ، سلیکشن کمیٹی اور کپتان کٹھ پُتلی ہی چاہیئیں۔ حسن علی کو بی کیٹیگری میں سینٹرل کنٹریکٹ دیا گیا اب وہ ڈراپ ہو گئے ، حارث رؤف بھی ڈراپ ہیں شاداب خان سینٹرل کنٹریکٹ کا حصہ ہوتے ہیں لیکن میچز نہیں کھیلتے ۔
ملک و معاشرے پر خاص طبقے کی اجارہ داری ہے جو کرکٹ میں ایک خاص قبیلے کی مدد کر رہا ہے اور اس سونے کا انڈہ دینے والی مرغی کے پیٹ کو کاٹ کر ایک بار ہی سارے انڈے نکالنا چاہ رہے ہیں ۔ انہوں نے اپنے سب سے بڑے پارٹنر ملتان سلطانز کو بھی نہیں چھوڑا جس کی پی ایس ایل میں سب سے زیادہ انویسٹمینٹ ہے ۔ علی ترین نے پی ایس ایل کو بہتر بنانے کے لیئے چند تجاویزات سامنے رکھیں اور فرنچائز کی مشکلات بھی بتائیں لیکن بڑی پارٹی نے اس کو حل کرنے کے بجائے اپنی انا بنا لی۔
پی ایس ایل میں دو ٹیمز اور آئیں گی لیکن ابھی تک نیلامی کے دستاویزات ہی تیار نہیں اور نا ہی میڈیا میں کوئی اشتہار آیا۔ علی ترین سے تصادم کے بعد لیگ کی کٹھ پتلی نے میڈیا میں آ کر اپنی موجودگی کا احساس دلایا ہے لیکن ملتان سلطانز کے معاملے میں مکمل چُپ سادھی ہوئی ہے۔











