سنگاپور میں منشیات کے اسمگلنگ کیسز میں لازمی سزائے موت کا قانون برقرار ہے، جس کے تحت اگر کسی شخص سے پانچ سو گرام یا اس سے زیادہ بھنگ، یا پندرہ گرام یا اس سے زیادہ ہیروئن برآمد ہو تو سزا موت کی صورت میں لازمی ہوتی ہے۔ رواں سال اب تک سترہ قیدیوں کو اس قانون کے تحت سزائے موت دی جا چکی ہے، جو 2003 کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے۔
اب پندرہ سال بعد پہلی مرتبہ سنگاپور میں لازمی سزائے موت کے خلاف قانونی کارروائی کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس ہفتے ہائی کورٹ کے ایک جج نے لازمی سزائے موت کے خلاف درخواست پر سماعت کی، جس میں انسانی حقوق کے چار کارکنان اور تین قیدیوں کے رشتہ دار بھی شریک ہوئے۔ ان کا مؤقف تھا کہ لازمی سزائے موت سنگاپور کے آئین کے ان حصوں کی خلاف ورزی ہے جو زندگی کے حق اور مساوی تحفظ کی ضمانت دیتے ہیں۔
انسداد منشیات کی موجودہ قانون سازی ججوں کو سزا میں اپنی صوابدید استعمال کرنے سے روکتی ہے۔ انسانی حقوق کارکن کوکیلا انامالائی کے مطابق، جج قیدی کے حالات یا مجبوری کو مدنظر نہیں رکھ سکتا، چاہے قیدی نے غربت یا دباؤ کی وجہ سے یہ کام کیا ہو۔ ایک اور کارکن کرسٹن ہان نے کہا کہ صرف کوریئر ہونے کی وجہ سے کسی کو اصل سرغنہ کے برابر سمجھنا منصفانہ نہیں۔
واضح رہے کہ سنگاپور میں گزشتہ قانونی کوششیں ناکام رہی ہیں، آخری مقدمہ سن 2010 میں دائر کیا گیا تھا۔ موجودہ اعدادوشمار کے مطابق چالیس قیدی منشیات کے جرم میں موت کی سزا کے منتظر ہیں۔ حکومت کا موقف ہے کہ یہی سزا سنگاپور کو دنیا کے محفوظ ترین شہروں میں شامل کرنے میں مددگار ثابت ہوئی ہے، اور 2023 کے سروے کے مطابق عوام کی حمایت بھی مضبوط ہے۔
یہ مقدمہ سنگاپور میں لازمی سزائے موت پر پہلے بڑے قانونی چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے، اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس کو ملک میں تبدیلی کی پہلی کرن قرار دے رہی ہیں۔











