بھارت میں عدالت نے بالی ووڈ اداکارہ امیشا پٹیل کے خلاف دھوکہ دہی کے ایک معاملے میں ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کر دیے۔
بھارتی میڈیا کےمطابق اترپردیش کےضلع مرادآباد کی ایک عدالت میں 2017 سے زیرِ سماعت مقدمے میں متعدد مرتبہ طلب کئے جانے کے باوجود امیشاپٹیل پیش نہیں ہوئیں۔
اس مقدمے میں امیشا پٹیل کے ساتھ ساتھ سریش کمار، راج کمار گوسوامی اور احمد شریف کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ اداکارہ کے خلاف تعزیراتِ ہند کی دفعات 120بی، 406، 420، 504 اور 506 کے تحت مقدمہ درج ہے۔
عدالت کی جانب سے جاری حکم کے مطابق امیشا پٹیل کو 27 مارچ کو ہر صورت عدالت میں حاضر ہونا ہوگا۔
مرادآباد کے رہائشی اور ایونٹ مینجمنٹ کمپنی ’’ڈریم وژن‘‘ کے مالک پون کمار ورما کے مطابق انہوں نے امیشا پٹیل کو ایک شادی کی تقریب میں پرفارمنس کے لیے مدعو کیا تھا، جس کے عوض طے شدہ رقم 14 لاکھ 50 ہزار روپے تھی۔
پون کمار کے مطابق اداکارہ نے پہلے 11 لاکھ روپے ایڈوانس وصول کیے، بعد ازاں دہلی پہنچ کر مزید 2 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا۔ جب یہ اضافی رقم دینے سے انکار کیا گیا تو امیشا پٹیل تقریب میں شریک ہوئے بغیر واپس چلی گئیں اور ایڈوانس رقم بھی واپس نہیں کی۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق امیشا پٹیل کی جانب سے مبینہ طور پر 2 لاکھ روپے کا ایک چیک بھی دیا گیا تھا جو باؤنس ہو گیا۔
امیشا پٹیل اس سے قبل بھی ایک مالی تنازع میں گھری رہ چکی ہیں۔ جھارکھنڈ کے ایک پروڈیوسر نے فلم ’’دیسی میجک‘‘ کے لیے 2.5 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا الزام لگایا تھا۔ تاہم 2024 میں اداکارہ نے مکمل رقم ادا کر دی، جس کے بعد وہ کیس ختم ہو گیا تھا۔










