برطانوی حکومت نے غیر قانونی اور نقصان دہ مواد کی تیاری کو روکنے کے لئےمصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی چیٹ بوٹس کو آن لائن سیفٹی قوانین کے دائرے میں لانےکا اعلان کردیا ہے۔
اے ایف پی کےمطابق ایلون مسک کے اے آئی چیٹ بوٹ گروک کے ذریعے خواتین اور بچوں کی جنسی نوعیت کی جعلی تصاویر بنانے کا عمل سامنے آنے کےبعد برطانوی حکومت نے آے آئی چیٹ بوٹس پر شکنجہ کسنے کا فیصلہ کیا ہے۔
برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ اے آئی چیٹ بوٹ فراہم کرنے والوں کو غیر قانونی مواد روکنے کا پابند بنایا جائے گا۔اس سلسلے میں قانونی خلا کو ختم کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم اے آئی کے ذریعے تیار کیے جانے والے گھناؤنے اور غیر قانونی مواد کے خلاف سخت کارروائی کریں گے، اور قانون توڑنے والوں کو نتائج بھگتنا ہوں گے۔
برطانیہ میں آن لائن سیفٹی ایکٹ جولائی میں نافذ ہوا تھا، جس کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نقصان دہ مواد کے لیے سخت عمر کی تصدیق لازمی قرار دی گئی تھی، تاہم چیٹ بوٹس اس قانون سے بڑی حد تک باہر تھے۔ اب حکومت اس خلا کو بند کرنے جا رہی ہے۔
قانون کے مطابق کسی بھی ویب سائٹ یا پلیٹ فارم پر بغیر رضامندی کے نجی تصاویر، بچوں سے متعلق جنسی مواد یا اے آئی سے تیار کردہ جنسی ڈیپ فیکس بنانا اور پھیلانا جرم ہے۔
برطانوی میڈیا ریگولیٹر آفکوم نے جنوری میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے خلاف تحقیقات شروع کی تھیں، جبکہ ڈیٹا پروٹیکشن اتھارٹی نے ایلون مسک کی کمپنی ایکس اے آئی کے کردار کا بھی جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔
ریگولیٹرز کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کر رہی ہے، جبکہ قوانین پیچھے رہ جاتے ہیں، اسی لیے اے آئی چیٹ بوٹس کے لیے فوری اور مؤثر ضابطہ ضروری ہو چکا ہے۔
دوسری جانب برطانوی حکومت بچوں کے آن لائن تحفظ کے لیے مزید اقدامات پر بھی غور کر رہی ہے، جن میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پابندی اور لامحدود اسکرولنگ جیسے فیچرز کو محدود کرنا شامل ہے۔










