افریقا کے جزیرہ نما ملک مڈغاسکر میں سمندری طوفان گیزانی کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 59 ہو گئی ہے، جبکہ کم از کم 15 افراد تاحال لاپتا ہیں۔ ملکی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ادارے نے پیر کے روز تصدیق کی کہ شدید بارشوں اور تیز ہواؤں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔
حکام کے مطابق یہ طوفان 10 فروری کو مڈغاسکر سے ٹکرایا تھا، جس کے باعث ملک بھر میں 16 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔ اس سے قبل جاری رپورٹ میں ہلاکتوں کی تعداد 43 بتائی گئی تھی۔
زیادہ تر اموات مشرقی ساحلی شہر تواماسینا میں رپورٹ ہوئیں، جو مڈغاسکر کا دوسرا بڑا شہر ہے اور جہاں تقریباً چار لاکھ افراد آباد ہیں۔ طوفان کے ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود شہر کے کئی علاقے اب بھی پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔
قومی دفتر برائے رسک و ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے مطابق 25 ہزار گھروں کو مکمل نقصان پہنچا، 27 ہزار سے زائد مکانات زیرِ آب آ گئے، جبکہ 200 سے زیادہ اسکولوں کے کمروں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
طوفان کے دوران ہواؤں کی رفتار 250 کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد حکومت نے ملک بھر میں قومی ایمرجنسی نافذ کر دی۔
عالمی ادارہ خوراک ورلڈ فوڈ پروگرام نے خبردار کیا ہے کہ تباہی کی شدت ’’ناقابلِ تصور‘‘ ہے، اور متاثرہ شہر میں صرف پانچ فیصد بجلی بحال ہو سکی ہے، جبکہ صاف پانی کی شدید قلت ہے۔
متاثرہ علاقوں میں اسکولوں کو عارضی امدادی مراکز میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جہاں لوگ خوراک کے لیے قطاروں میں کھڑے ہیں، جبکہ طبی عملہ ملیریا سے بچاؤ کے لیے اسکریننگ کر رہا ہے۔
چین اور فرانس نے تلاش اور امدادی کارروائیوں کے لیے مدد فراہم کی ہے.
ادھر ہمسایہ ملک موزمبیق اس طوفان سے بڑی حد تک محفوظ رہا، تاہم وہاں کم از کم چار ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔
ویٹیکن سٹی سے جاری بیان میں پوپ لیو چہاردہم نے مڈغاسکر کے عوام سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان لوگوں کے لیے دعا گو ہیں جو کم وقت میں دو شدید طوفانوں کا سامنا کر چکے ہیں۔
واضح رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں مڈغاسکر کے شمال مغربی حصے میں ایک اور سمندری طوفان فیتیا آیا تھا، جس میں سات افراد ہلاک اور 20 ہزار سے زائد بے گھر ہو گئے تھے۔










